سپریم کورٹ آف پاکستان ( Supreme Court of Pakistan ) نے آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ ( Dam Fund ) کے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے واضح کیا کہ آڈیٹر جنرل کو فنڈز تک مکمل رسائی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج بروز جمعرات 12 جنوری کو دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک حکام نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی۔ ڈیمز فنڈ میں اس وقت سولہ ارب سے زائد رقم موجود ہے۔ نیشنل بینک کے ذریعے ٹی ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ڈیمز فنڈ کے ڈونرز کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ عوام کو بتائیں گے کہ ان کے فنڈ سے کون سی مشینری خریدی گئی۔ ڈیمز فنڈ کا پیسہ سیلاب سے تباہ کاریوں کی مرمت پر خرچ نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آڈیٹر جنرل آفس کے نمائندے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پارلیمان میں آپ کے کسی نمائندے نے کہا کہ انہیں ڈیم فنڈ تک رسائی نہیں۔ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آڈیٹر جنرل کو ڈیمز فنڈ تک مکمل رسائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں