لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ارکان اسمبلی کو پیسوں کے علاوہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہے ارکان پنجاب اسمبلی کے اوپر پریشر ڈالا جا رہا ہے اور 5 ارکان کو خریدنے کے لیے سوا ارب روپے کی رقم آفر کی گئی جبکہ ہمارے ارکان کو پیسوں کے علاوہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ ہمارے ارکان کو کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی مستقبل نہیں اور عمران خان کو مائنس کر دیا اب اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہمارے لوگوں کو مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کا کہا جا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف آج ملک کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے اور جو ریڈ لائن لگانے کی بات کرتے ہیں انہیں سیاست کا پتہ ہی نہیں جبکہ ہماری حکومت سازش کے تحت گرائی گئی لیکن ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ڈنڈے کے زور پر قابو نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹ 20 سالوں میں ایک ارب سے 140 ارب ڈالر پر چلی گئی اور پاکستان کی موجودہ حکومت نے آتے ہی 1100 ارب روپے کے کیسز ختم کیے۔ یہ حکومت میں اپنے کیسز معاف کروانے کے لیے آئے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 2 خاندانوں کی چوری کی وجہ سے بنگلادیش اور بھارت پاکستان سے آگے نکل گئے جبکہ پاکستان میں ان 2 خاندانوں کا کام صرف پیسے چوری کرنا اور این آر او لینا ہے۔ تحریک انصاف نے کورونا اور دیگر مسائل سے پاکستان کو نکالا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں پہلی بار آزاد خارجہ پالیسی لا رہے تھے اور تحریک انصاف کے آخری 2 سال کے دوران معیشت بہتر رہی۔ تحریک انصاف کے دور میں سب سے زیادہ ڈالر پاکستان آئے۔

عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ جنیوا میں جا کر مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرے اور اتنا بڑا وفد لے کر یہ بھیک مانگنے جنیوا گئے۔ حکمران کینسر کا علاج ڈسپرین سے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں