زرعی پیداوار اور کولڈ سٹوریج

بھارتی پنجاب میں نریندر مودی کی ‘کارپوریٹ سرکار‘ کے کسانوں پر ٹھونسے جانے والے تین نکاتی ایجنڈے کے سبب پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے کسان گزشتہ دو ماہ سے دہلی کی جانب جانے والی تمام شاہراہوں پر اس سخت جاڑے کے موسم کی بے پناہ سختیاں برداشت کرتے ہوئے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ بھارتی کسان بار بار امیت شاہ جیسے سفاک وزیر داخلہ کے احکامات پر پولیس کی شیلنگ، آنسو گیس اور سب سے بڑھ کر اس سخت سردی میں واٹر کینن کی تیز اور سرد بوچھاڑوں کے بے دریغ استعمال کا شکار ہو چکے ہیں مگر وہ اپنے مطالبات کے تسلیم کیے جانے تک ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس وقت میڈیا پر دہلی سے ملحقہ علاقوں میں ہزاروں بھارتی کسان‘ بچوں‘ بزرگوں اور خواتین کی بھاری تعداد کے ہمراہ اپنا گھر بار چھوڑ کر سخت سردی اور بارش میں کھلے آسمان تلے ٹھٹھرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ بھارت کی مودی سرکار اپنے ملک کے کسانوں کیلئے کیا قانون نافذ کرنا چاہتی ہے‘ اس پر بحث میرے اس کالم کا حصہ نہیں لیکن بھارت کے کسانوں کی اس ہڑتال کے دوران مشہور کرکٹر سردار نوجوت سنگھ سدھو کی ایک دستاویزی رپورٹ نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ سدھو جو کانگریس کے رہنما بھی ہیں‘ بھارت بھر کے کسانوں اور عوام کے حق میں اناج اور سبزیوں کی بے لگام مہنگائی روکنے کیلئے ایک مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطا بق ”حکومت ہر پانچ دیہات میں اگر سرکار کا ملکیتی ایک کولڈ سٹوریج تعمیر کر دے‘ جس میں ان دیہاتوں کے کسانوں سے خریدی گئی سبزیاں اور اجناس وغیرہ سٹور کی جائیں اور جیسے ہی محسوس ہو کہ مارکیٹ میں ان اشیا کی قلت ہونے والی ہے تو ان اجناس کو بازاروں اور منڈیوں میں لا کر پھیلا دیا جائے‘‘۔ کسانوں کی یہ فصل کیسے خریدی جائے‘ اس کا کیا طریقہ کار ہو گا، اس حوالے سے بحث کی جا سکتی ہے لیکن یہ ایک ایسا نکتہ ہے‘ میرے خیال میں‘ جس پر اگر پاکستان میں عمل کیا جانے لگے تو حکومت اپنے عوام کو مہنگائی کے طوفان اور اشیا کی کمیابی یا یکایک چیزوں کے مارکیٹ سے غائب ہو جانے سے نجات دلا سکتی ہے۔ اس پر اربابِ اختیار کو ضرور غور کرنا چاہیے۔

Vinkmag ad

Star Asia

Star Asia

اسٹار ایشیا پاکستان کا مقبول نیوز چینل ہے۔

Read Previous

آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے!

Read Next

حوادث ومصائب