آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے!

جب کوئی لکھنے والا کسی وقت پاکستان کے اداروں یا معاشرت کا تقابل مغربی ممالک کی معاشرت یا اداروں سے کرتا ہے تو ہمارے بہت سے قارئین اسے ذہنی غلام، عالمِ کفر سے متاثر اور افرنگ سے مرعوب قرار دے کر مطعون کرنے لگ جاتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ انہوں نے فلاں بات ہم سے سیکھی، فلاں چیز ہم سے مستعار لی اور فلاں عادت ہم سے اپنائی۔ یہ سراسر ‘پدرم سلطان بود‘ والا معاملہ ہے۔ اصل بات یہ نہیں کہ ہم نے انہیں کیا سکھایا، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آخر ہم نے اپنی میراث کیوں کھوئی؟ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کیوں نظر انداز کیے اور آخر ہم کب تک اس خوش فہمی میں مبتلا رہیں گے کہ ہم کیا ہوتے تھے؟ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اب بھی اس بات پہ غور کرنے کو تیار نہیں کہ ہم نے اپنی اچھی عادات، اعلیٰ صفات اور درخشندہ روایات سے کیسے منہ موڑا، کس طرح اس سے روگردانی کی اور کس طرح ہم آسمان کی بلندیوں سے قعر مذلت میں آن گرے۔

مسئلہ احساس کمتری کا نہیں، احساس زیاں کا ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، یہ جہاں سے ملے اسے حاصل کرو۔ آج اہل مغرب علم و فن میں جو ترقی کر رہے ہیں اس کی مثال دینا دراصل ان کی تقلید نہیں، بلکہ اپنی کھوئی ہوئی میراث کی جستجو ہے۔ مغرب سے مرعوبیت نہیں، بلکہ اپنی عظمتِ رفتہ کی طرف لوٹنے کی آرزو ہے اور بس۔

گزشتہ دنوں وقت کی پابندی کی عادت اپنانے کے حوالے سے لکھا جانے والا کالم دراصل ایک یاددہانی تھی۔ صرف کالم پڑھنے والوں کے لیے نہیں بلکہ شاید خود اپنے لیے بھی۔ میرے ایک عزیز دوست کی مانچسٹر کے قریبی قصبے اولڈھم میں دکان ہے۔ وہاں دکانوں کے کھلنے کے باقاعدہ اوقات کار ہیں اور ان کی پابندی کی جاتی ہے۔ اس پابندی پر عمل دراصل قانون کے سختی سے نفاذ کا نتیجہ ہے۔ وہاں کے وقت کے حساب سے صبح سویرے دکانیں کھلتی ہیں اور سرِ شام بند ہو جاتی ہیں۔ محلوں میں گنتی کے چند Convenience store ہوتے ہیں جن پر ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ سٹور دو قسم کے ہیں۔ کچھ سیون الیون ہوتے ہیں جو علی الصبح سات بجے کھلے ہیں اور رات گیارہ بجے بند ہوتے ہیں۔ دوسرے 24/7 ہوتے ہیں‘ جن سے مراد ایسے سٹورز ہیں جو ہفتے کے سات دن چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔ ڈائون ٹائون وغیرہ میں دکانیں دیر تک بھی کھلی رہتی ہیں مگر یہ مکمل کمرشل سڑکوں پر ہوتا ہے جیسے لندن میں ایجویئر روڈ یا آکسفورڈ سٹریٹ وغیرہ؛ تاہم رہائشی علاقوں میں اس قسم کی آزادی میسر نہیں۔

Vinkmag ad

Star Asia

Star Asia

اسٹار ایشیا پاکستان کا مقبول نیوز چینل ہے۔

Read Previous

کیپیٹل ہل کا محاصرہ تصاویر میں

Read Next

زرعی پیداوار اور کولڈ سٹوریج