کُرد ملیشیا شمالی شام کا سرحدی علاقہ خالی کرنے پر رضا مند

 ترکی کی جانب سے شمالی شام میں جنگ بندی کے بعد کُرد ملیشیا سرحدی علاقہ خالی کرنے پر رضا مند ہوگئی۔

عرب میڈیا کے مطابق کُردوں کی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد سیرئین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ کُرد ملیشیا کے اہلکار شمالی شام کے سرحدی علاقے سے اتوار تک نکل جائیں گے۔

واضح رہے کہ ترکی 17 اکتوبر کو  صدر رجب طیب اردوان اور امریکی نائب صدر مائیک پنس کے درمیان مذاکرات کے بعد 5 روز کے لیے آپریشن روکنے پر رضا مند ہوگیا تھا۔

آپریشن معطل کیے جانے کا مقصد یہ تھا کہ اس دوران کرد ملیشیا کے اہلکار اس علاقے سے نکل جائیں جسے ترکی سیف زون بنانا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی شام میں 9 اکتوبر کو کرد باغیوں کے خلاف بہارِ امن ’پیس اسپرنگ‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں 600 سے زائد کرد ملیشیا کے اہلکاروں کے مارے جانے اور کئی قصبوں پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا۔

کرد ملیشیا سیز فائرکی خلاف ورزی کررہی ہے: ترکی کا دعویٰ

دوسری جانب ترک وزرات دفاع   کے مطابق تل ابیض میں پیٹرولنگ کے دوران کردوں کے ایک حملے میں ایک ترک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

وزرات دفاع کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود  کرد ملیشیا مسلسل  سیز فائر کی خلاف ورزی کررہی ہے اور  17 اکتوبر کو امریکا اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد سے اب تک کرد ملیشیا نے 20 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔

خیال رہے کہ کرد ملیشیا کی جانب سے بھی ترک فوج پر جنگ بندی کے باوجود بمباری اور شیلنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

شمالی شام میں ترکی کی کارروائی کا مقصد

 ترکی اپنی سرحد سے متصل شامی علاقے کو محفوظ بنا کر ترکی میں موجود کم و بیش 20 لاکھ شامی مہاجرین کو بھی وہاں ٹھہرانا چاہتا ہے۔

دوسری جانب سیرئین مانیٹرنگ گروپ کے مطابق ترکی کے آپریشن کے آغاز کے بعد سے ترک شام سرحدی علاقوں سے 3 لاکھ سے زائد شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اس علاقے میں موجود شامی کرد ملیشیا (وائے پی جی) ’جسے امریکی حمایت بھی حاصل رہی ہے‘ کو انقرہ دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے اور اسے ترکی کے علیحدگی پسند اسیر کرد رہنما عبداللہ اوجلان کی سیاسی جماعت کردش ورکر ز پارٹی کا عسکری ونگ قرار دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں