جب حضرت داتا گنج بخش ؒ نے لاہور پہنچ کر سب سے پہلے ایک مسجد تعمیر کروائی تو مقامی علماء نے اس مسجد پر سب سے پہلا اعتراض کیا اٹھایا تھا اور حضرت ؒ نے اس کا جواب کیسے دیا ؟ ایک ایمان افروز تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور (سٹار ایشیا نیوز اسپیشل) ولی اللہ کے معنی ہیں اللہ کا دوست ،اللہ کے دین کا وارث،اللہ کے ولی ہر بُرے کام سے دور رہتے ہیں ان کی اس ادا سے رب کریم خوش ہوتا ہے اور اس طرح وہ سنت مصطفی ؐکی پیروی میں اپنی کامیابی کومضمرسمجھتے ہیں ۔ انہی اولیاء کرام ؒ میں سے نامور مضمون نگار ضیاء الحق سرحدی اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عظیم المرتبت حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ ہیں ۔ جن کا سلسلہ نسب آٹھ واسطوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک پہنچتا ہے ۔آپ نے ساری زندگی احکام الہی کی پابندی اور عشق رسول ؐکی سر شاری و بے قراری میںگزاری اور شریعت و طریقت کے آسمان محبت پر مثل آفتاب و ماہتاب بن کر ابھرے اور خطہ ہندستان کے طول و عرض میں بندگان حق کیلئے روحانیت کی پیاس بجھانے کا مرکز بن گئے۔ آج برصغیر پاک و ہند کے اولیاء کرامؒ کی شب و روز محنتوں کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کا فضل ان اولیاء پر یوں بھی ہوا کہ غیر وطن میں جہاں جہاں ان کا قیام ہوا وہ مقام انہی کے نام سے منسوب ہو گیا جیلان سے پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی بغداد پہنچے تو بغداد کو شہرت دوام حاصل ہوئی اور بغداد ،بغداد شریف کے نام سے مشہور ہوا ۔ خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ اجمیر پہنچے تو اجمیر شریف کی پہچان بن گئے ، اجودھن سے حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر پاک پتن شریف پہنچے تو اس غیر معروف علاقہ کو شہرت دوام حاصل ہوئی تو یہ علاقہ اجودھن سے پاک پتن شریف کے نام میں تبدیل ہو گیا اور جب ہجویر سے داتا گنج بخش سر کار ؒ لاہور پہنچے تو لاہور کی پہچان بن گئے اور لوگوں کی زبان پر لاہور کا دوسرا نام ’’داتا کی نگری ‘‘ہو گیا۔ آپؒ کی ابتدائی زندگی کا کچھ حصہ محلہ’’جلابی‘‘ ،اور کچھ عرصہ محلہ ’’ ہجویر‘‘ میں گزرا۔ آپ اپنے مرشد کامل کے حکم پر 431ھ میں غزنی سے لاہور تشریف لائے ان دنوں غزنی میں سلطان مسعود غزنوی حکمران تھاحضرت داتا علی ہجویریؒ نے لاہور تشریف لا کر سب سے پہلے ایک مسجد تعمیر کرائی جب مسجد کی تعمیر سے فراغت پائی تو علماء نے اس مسجد کے قبلے پر اعتراض کیا۔آپ نے تمام علماء کو بلایا اور خود امام بن کر اس میں نماز پڑھائی نماز کے بعد تمام حضرات سے فرمایا کہ تم لوگ اس مسجد کے قبلہ پر اعتراض کرتے تھے اب دیکھو کہ قبلہ کس طرف ہے جب انہوں نے نظر اٹھا کردیکھا تو یک بارگی سب کو قبلہ بالمشافہ بچشم ظاہر نظر آیا اس طرح قبلہ کو سیدھے رخ ،پر دیکھ کر سب معترضین علماء نادم ہوئے اورپھر آپ سے معذرت چاہی ،یہ پہلی کرامت تھی جو لاہور میں آپ سے ظاہر ہوئی اور اس کے بعدسارے شہر اور رفتہ رفتہ تمام پاک و ہند میں آپ قطب الاقطاب مشہور ہو گئے۔ آپ نے اپنے زمانے کے جلیل القدر علماء سے علم دین سیکھا ، حصول علم کے لئے سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے شام ،عراق ، بغداد ، مدائن ، فارس ، کوہستان ، آذربائیجان ، طبرستان ، خوزستان ، خراسان وغیرہ کے مشہور علماء وفضلاء سے اکتساب فیض کیا ۔ آپ کے بے شمار استادوں میں سے خاص کر شیخ ابو العباس احمد بن محمد الاشقانی ، شیخ ابو القاسم علی گر گانی، ابو سعید ابو الخیر اور امام ابو القاسم قشیری ؒ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ آپ کو مرشد کامل حضرت سید نا ابو الفضل محمد بن الحسن ختلی ؒ ( جو جنیدیہ سلسلے کے بزرگ ہیں ) تک رسائی ملی توہمہ وقت ان کی خدمت میںحاضر رہ کر خلافت و اجا زت پائی۔ آپ شب و روز اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں مصروف رہے حتیٰ کہ جب آپ کے پیر و مرشد کا وصال ہوا تو ان کا مبارک سر حضرت سیدعلی ہجویری ؒ کی گود میں تھا آپ امام اعظم ؒ ابو حنیفہ کے مقلد تھے اور ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے آپ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں صرف اتنا ذکر ملتا ہے کہ آپ نے شادی کی لیکن کچھ ہی مدت بعد بیوی سے علیحدگی ہو گئی اس کے بعد جب تک آپ زندہ رہے آپ نے دوسری شادی نہیں کی پیر و مرشد کے انتقال کے بعد بہ اختلاف روایت 432 ھ میں آپ نے اپنے وطن غزنی کو خیر باد کہا اور تبلیغ اسلام کا شوق آپ کو کشاں کشاں بت کدہ ہند میں لے آیا پھر آپ سر زمین لاہور پہنچے اور شب و روز اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہو گئے ۔

- Advertisement -

You might also like

- Advertisement -