ماضی کی نامور اداکارہ گل بہار بانو پر سوتیلے بھائی کی جانب سے ظلم و زیادتی کا الزام ۔۔۔۔ اصل کہانی کیا نکلی ؟ کیس کا ڈراپ سین کر دینے والی خبر

لاہور(سٹار ایشیا نیوز اسپیشل)ماضی کی معروف اور ایوارڈ یافتہ گلوکارہ گل بہار بانو نے ضلع اور سیشن جج چوہدری طارق جاوید کے سامنے گواہی دی کہ انہیں اپنے سوتیلے بھائی ایاز کے گھر میں رہتے ہوئے کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔گل بہار بانو کے بھائی غلام فرید اور وکیل محسن رضا نے عدالت میں سوتیلے بھائی ایاز کے خلاف درخواست دائر کرائی تھی جس میں ایاز پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ گل بہار بانو کو زبردستی اپنے گھر میں قید کرکے رکھے ہوئے ہیں اور ان پر تشدد کررہے ہیں، جس کے بعد عدالت میں گل بہار بانو کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ایڈووکیٹ محسن رضا نے اپنی درخواست میں یہ بھی استدعا کی کہ عدالت صدارتی ایوارڈ یافتہ گل بہار بانو کا خیال رکھنے کے لیے وکیلوں کی ایک کمیٹی تشکیل دے۔عدالت میں دیے اپنے بیان میں گلوکارہ نے سوتیلے بھائی پر ان پر تشدد کرنے کے تمام تر الزامات بےبنیاد ٹھرادیے، انہوں نے کہا کہ ایاز نے ان کی جائیداد ہڑپنے کی کوشش نہیں کی جبکہ وہ ان کے گھر میں گزشتہ 40 سالوں سے سکون کی زندگی گزار رہی ہیں۔ضلع اور سیشن جج چوہدری طارق جاوید نے ڈان کو بتایا کہ گل بہار بانو نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا تاہم انہوں نے اب تک دائر کی گئی درخواست پر کوئی آرڈر جاری نہیں کیے۔اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ گل بہار بانو خوف میں مبتلا ہیں اور کسی سوال کا جواب نہیں دے پارہی۔پولیس کی تحویل میں گلوکارہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنا علاج بھی کرا رہی تھی، جس کے بعد انہیں جمعرات کو واپس گھر بھیج دیا گیا۔یاد رہے کہ گل بہار بانو 1955 میں بہاولپور میں پیدا ہوئیں، استاد افضل حسین سے موسیقی کے اسرار و رموز سیکھے اور 1992 میں ریڈیو پاکستان بہالپور سے گائیکی کا آغاز کیا۔گلوکارہ کا کراچی میں منتقلی کے بعد شہرت کا باقاعدہ آغاز ہوا اور وہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کی مقبول گلوکارہ بن گئیں، حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2007 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

- Advertisement -

You might also like

- Advertisement -