بڑی سازش بے نقاب : وہ میڈیا جو پچھلے پانچ سال سے عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا ، پہلے 50 روز میں اچانک خان صاحب کے خلاف کیوں ہو گیا ؟ صف اول کے صحافی نے اندر کا راز لیک کر دیا

لاہور (سٹار ایشیا نیوز اسپیشل) حیرت اس بات پر نہیں ہو رہی کہ موجودہ حکومت سے بہت فاش غلطیاں ہو رہی ہیں ، حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ میڈیا جو پچھلے پانچ سال خان صاحب کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر رہا تھا اب حکومت کو کام کرنے کی مہلت نہیں دے رہا۔ نامور کالم نگار عمار مسعود روزنامہ جنگ میں اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ساٹھ دن کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لئے بہت ناکافی ہیں مگر بال کی کھال نکالی جا رہی ہے۔ ہر فیصلے کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے۔ ہر وزیر کی تضحیک ہو رہی ہے۔ ہر ملک کے ساتھ معاملات کو نااہلی پر محمول کیا جا رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت سے اسٹاک مارکیٹ تک کا ملبہ سب نئی حکومت پر ڈالا جا رہا ہے۔ اگر کوئی اچھا فیصلہ ہوا بھی ہے تو وہ میڈیا کی نظر سے غائب ہے۔ اگر کوئی وزیر اچھا چنا بھی ہے تو توجہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ اگر کوئی معاہدہ بہتری کے لئے ہوا بھی ہے تو اس کا ذکر سننے میں نہیں آ رہا ۔ یہ وہی میڈیا ہے جس کو کبھی کے پی میں گورننس کی کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ جس کو کبھی کے پی میں کوئی کرپشن نظر نہیں آئی۔ جس کے مطابق دھرنے کے ذریعے پاکستان میں انقلاب آنا تھا۔ کے پی کے پولیس کے نظام سے ملک بھر نے فیض پانا تھا۔ جس کے مطابق کے پی میں دنیا بدل گئی تھی۔ ہر شخص کو فلاح مل گئی تھی۔ ہر فرد کی دنیا بدل گئی تھی۔ حیرت ہے کہ وہی میڈیا اب وزیراعظم صاحب کو نہیں بخش رہا۔ یہ نہیں ہے کہ حکومت سے غلطیاں نہیں ہو رہیں لیکن جس طرح روز فساد برپا کیا جا رہا ہے اس سے سازش کی بو آ رہی ہے۔ اس سے خوف سا آ رہا ہے۔ حتی کہ پی ٹی وی کے پروگراموں میں بھی منہ کھول کر تنقید کی جا رہی ہے۔ حکومتی میڈیا خود حکومت کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ اخبارات تضحیک تنقید اور تمسخر سے بھرے پڑے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ حکمران اس تنقید اور اپنی فاش غلطیوں سے ماورا ہو کر کرپشن کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ترقی کی کوئی بات کرنے کے بجائے اپوزیشن پر الزامات لگا رہے ہیں۔ خوشی کا کوئی پیغام دینے کے بجائے کنٹینر والی تقریر دہرا رہے ہیں۔ وزراء کرام اس سے بھی آگے جا رہے ہیں۔ نفرت کے ایک ارب پودے لگا رہے ہیں۔ اب لوگ اس تقریر سے بور ہو چکے ہیں۔ اب لوگ خان صاحب کو منتخب کر چکے ہیں۔ اب اسمبلیاں حلف اٹھا چکی ہیں۔ اب آپ کے من پسند اسپیکر انتظام سنبھال چکے ہیں۔ اب آپ جناب کی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ اب صدر مملکت بھی آپ کی جماعت کے آ چکے ہیں۔ اب میدان آپ کا ہے۔ اب دور آپ کا ہے۔ اب اپوزیشن پر تنقید سے اپوزیشن کا کچھ نہیں بگڑے گا بلکہ آپ کی کوتاہ فہمی پر سوال آئے گا۔ حیرت ہے عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے والی پی ٹی آئی اب ضمنی الیکشن میں ہار رہی ہے۔خان صاحب کی اسمبلیوں میں عددی برتری روز بہ روز کم ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس ہو رہے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن کی طرف قدم اٹھ رہے ہیں۔ فصلی پرندے اڑان بھرنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اتحادی جماعتیں اچانک شاکی نظر آ رہی ہیں۔ غیر مقبول فیصلوں پر عوام غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ روپے کی قدر کم ہو رہی ہے۔ ڈالر کا ریٹ چڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔ اس موقع پر ہمارے حکمران دنیا بھر میں کرپشن کا راگ الاپ رہے ہیں۔ بیرون ملک جا کر اپنے ملک کی خامیاں نہایت فصاحت اور صراحت سے بیان کر رہے ہیں۔ ہم اس سے پہلے بھی یہ مناظر دیکھ چکے ہیں۔ حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتی ہیں۔ مقدمات کی فائلیں کھلتی ہیں۔ کرپشن کے کیس سامنے آتے ہیں۔ مجرمانہ کارروائیوں کے ریکارڈ میڈیا کی زینت بنتے ہیں۔ انتقامی کارروائیاں شروع ہوتی ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک حکومت ختم نہیں ہو جاتی۔ حیرت ہے حکمرانوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ وہ ڈھلوان پر کھڑے چوٹی سر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کے وفادار کم ہی انتخاب جیتے ہیں۔ ادھر ادھر سے الیکٹبلز پکڑ کر انتخاب میں کامیابی حاصل کی ہے۔ کرپشن کے کیسز انکی جماعت کے ارکان کے خلاف بھی ہیں۔ جو لوگ آخری لمحات میں اپنی اپنی جماعت چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں مخالف ہوا چلنے پر وہ پھر نئے ٹھکانے کی تلاش میں جا سکتے ہیں۔ نئے گھروندے بنا سکتے ہیں ۔ اتنی مشکل صورت حال میں حالات کا شیرازہ کسی بھی وقت بکھر سکتا ہے۔گنگا کبھی بھی الٹی بہہ سکتی ہے۔ اتحادی جماعتیں جو اپنے اپنے مفاد کے لئےحکومت کا ساتھ دے رہی ہیں انہیں جمہوریت کی اصل روح اچانک یاد بھی آ سکتی ہے۔ حیرت ہے کہ ہم کبھی ماضی سے سبق نہیں سیکھتے۔ ہم ہمیشہ وہی غلطیاں دہراتے ہیں جن پر ماضی میں ہم بحیثیت قوم پچھتاتے رہے ہیں۔ اس دفعہ بھی ایسا ہی امکان نظر آ رہا ہے۔ کوئی سبق نہیں سیکھ رہا۔ ہو گا کیا کہ وزیراعظم صاحب اب مسلسل کرپشن کا راگ الاپتے رہیں گے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو چور ڈاکو اور کرپشن کا منبع قرار دیتے رہیں گے۔ اسی چکر میں وہ اپنی حکومت کی کارکردگی بھول جائیں گے۔ ادھر اپوزیشن احتجاج کرے گی۔ عوام غم وغصے کا اظہار کریں گے۔ اس منظر میں میڈیا خان صاحب کی ہر کوشش کا تمسخر اڑائے گا۔ تھوڑے ہی عرصے میں لوگوں کو یہ باور کروایا جائے گا کہ نواز اور زرداری تو کرپٹ ہیں اور خان صاحب ہیں نااہل۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ میثاق جمہوریت کی تجدید کی جائے ۔ تحریک انصاف کو ایک سیاسی قوت تسلیم کی جائے اور میثاق جمہوریت میں ان کے تحفظات کو بھی جگہ دی جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ کیونکہ جب جماعتیں حکمرانی کے منصب پر براجمان ہوتی ہیں تو ان کو میثاق جمہوریت جیسی چیزیں یاد نہیں آتیں۔(ش س م)

- Advertisement -

You might also like

- Advertisement -