عمران خان مشکل حالات میں مدینہ منورہ جا کر کیا کام کرتے ہیں کہ واپسی پر کامیابی قدم چومنے لگتی ہے؟

اسلام آباد(سٹار ایشیا نیوز اسپیشل)معروف صحافی و کالم نگار مظہر برلاس اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ عمران خان جب بھی سعودی عرب جاتے ہیں تو پہلے مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں، وہ مدینہ منورہ میں جوتے نہیں پہنتے، وہ مدینہ میں ہر لمحہ اپنی عقیدتوں کا اظہار کرتے ہیں، اس بار وہ روضۂ رسولؐ پر دیر تک آنسو بہاتے رہے، یہی آنسوان کی دوجہانوں میں کامیابی کی علامت بنیں گے۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے ’’مشکل ترین حالات بہترین لوگوں کے حصے میں آتے ہیں کیونکہ وہ مشکل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ اگر علم کے دروازے حضرت علیؓ کے اس قول کو پیش نظر رکھا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کے حصے میں مشکل ترین حالات آئے ہیں۔ایک اور خبر کے مطابق معروف صحافی و کالم نگار مظہر برلاس اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ اس بار جب عمران خان روضۂ رسولؐ پر حاضری کے لئے جا رہے تھے تو کئی پاکستانی آوازیں بلند کر رہے تھے کہ ’’خان صاحب چوروں کو نہ چھوڑنا‘‘ عمران خان اپنی تقریر میں یہ باتیں نہیں بھولے۔ سعودی شاہی خاندان سے ملاقاتوں میں ایک اہم سعودی شخصیت نے عمران خان سے کہا ’’ہم آپ کو گرنےنہیں دیں گے، اگر مزید ضرورت ہوئی تو وہ بھی پوری کریں گے مگر آپ اپنا ملک لوٹنے والوں کو نہ چھوڑیں‘‘۔ عمران خان نے دبنگ انداز میں دوران تقریر کہا کہ وہ کسی بھی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے، ان کا عوام سے یہی وعدہ تھا، کرپشن کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے واشگاف انداز میں کہا کہ ’’کان کھول کر سن لو، کسی کو این آر او نہیں ملے گا، کسی کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا، جس کا جو دل ہے کر لے‘‘۔

- Advertisement -

You might also like

- Advertisement -