اینٹوں کے بھٹوں کی بندش ۔۔۔۔ حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا

لاہور (سٹار ایشیا نیوز اسپیشل) محکمہ تحفظ ماحولیات میں سموگ کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس ہوا ، اس اجلاس کی صدارت چیئرمین سموگ کمیشن ڈاکٹر پرویز حسن نے کی، اجلاس میں سیکرٹری ماحولیات ظفر نصراللہ اور بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے صدر شعیب خان نیازی نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ بلدیات، زراعت، ٹرانسپورٹ، سپارکو اور محکمہ موسمیات کے نمائندگان نے شرکت کی اجلاس کا معقصد موسمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر سموگ کے لیے کیے جانے والے انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس میں سپارکو کے نمائندہ نے چئیرمین سموگ کمیشن ڈاکٹر پرویز کو مطلع کیا کہ موسمی صورتحال فی الحال ہمارے حق میں ہے ، ہوا کے رخ کی وجہ سے سمو گ اور انڈیا کے اندر فصلوں کی باقیات کے جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی انڈیا کے مشرقی سمت اکٹھی ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے بھی پاکستان میں سموگ کا خطرہ فی الحال ٹلا ہو ا ہے۔ محکمہ موسمیات نے بھی اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ موسم میں فی الحال ایک ہفتہ تک کوئی ایسی تبدیلی نظر نہیں آرہی جس سے سموگ کا فوری طور پر خطرہ پیدا ہو لیکن نومبر کے شروع میں حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس پر چئیرمین سموگ کمیشن ڈاکٹر پرویز حسن اور سیکرٹری ماحولیات نے فیصلہ کیا کہ بھٹوں کی بندش کے لیے مزید ایک ہفتہ کی مہلت دی جائیگی، زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل نہ ہونے والے بھٹوں کو تین نومبر سے بند کیا جائیگا۔ چیئرمین سموگ کمیشن ڈاکٹر پرویز نے مزید کہا کہ بندش میں تاخیر کا فیصلہ سپارکو، محکمہ ماحولیات اور موسمیات کے سائینسی ڈیٹا کی روشنی میں کیا گیا،اس سلسلے میں سارے صوبے میں تین زون تشکیل دیئے گئے ہیں ، گرین زون میں ایسے علاقے ہوں گے جہاں آلودگی کم ہونے کی وجہ سے بھٹوں کو بند نہیں کیا جائیگا، ییلو زون میں ایسے علاقے ہوں گے جن کو مشاہدہ میں رکھا جائیگا، موسمی صورتحال کو دیکھ کر انکو بند کرنیکا فیصلہ کیا جائیگا، اور ریڈ زون کے علاقے جہاں آلودگی زیادہ ہو گی وہاں آلودگی پھیلانے والے بھٹوں اور فیکٹریوں کو بند کیا جائیگا،انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں سموگ کے لیے سب ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

- Advertisement -

You might also like

- Advertisement -