پاکستان کے بڑے گروپ کا پنجاب میں سرمایہ کاری کا اعلان، یہ سرمایہ کاری کن شعبوں میں ہوگی؟ علی الصبح دل خوش کرنے والی خبر آگئی

لاہور(سٹٓارایشیا نیوزاسپیشل) فاطمہ گروپ نے پنجاب کے پازیٹیو علاقوں میں سیمنٹ پلانٹ لگانے،توانائی اور کول مائننگ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری اور صنعتی عمل کو تیز کرکے ملک کو مشکل مالیاتی صورتحال سے نکالا جا سکتا ہے صنعت کاری اورسرمایہ کاری کو فروغ دے کر قومی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔
صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال سے آج پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر میں فاطمہ گروپ کے سی ای او فواد احمد مختارنے ملاقات کی۔جس میں پنجاب کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
فاطمہ گروپ نے صوبے کے پازیٹو علاقوں میں سیمنٹ پلانٹ لگانے،توانائی اور کول مائننگ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہارکیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا گروپ صوبے کے پازیٹو ایریا میں سیمنٹ پلانٹ ،انرجی پلانٹ لگانا چاہتاہے۔
صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کا فروغ پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے صوبے میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے انتہائی ساز گار ماحول پیدا کیا گیا ہے۔سرمایہ کاروں کوایک ہی چھت تلے ہر ممکن سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صنعت کاری اورسرمایہ کاری کو فروغ دے کر قومی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے اورروزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے بھی صنعت کاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ جہاں صنعت لگتی ہے وہاں تجارتی ،سماجی اور معاشی سرگرمیاں بڑھتی ہیں۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کا مزید کہنا تھا کہ سرمایہ کاری اور صنعتی عمل کو تیز کرکے ملک کو مشکل مالیاتی صورتحال سے نکالا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز کے قیام کے لئے بھی تیز رفتاری سے اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ فاطمہ گروپ صوبے میں سرمایہ کاری بڑھانا چاہتا ہے توہم اس کا خیرمقدم کریں گے اورسرمایہ کاری کے حوالے سے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعتوں کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لئے تمام وسائل بروئے کا لائے جارہے ہیں۔فاطمہ گروپ کے نمائندوں کے علاوہ پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے حکام بھی ملاقات میں موجو دتھے۔

- Advertisement -

You might also like

- Advertisement -