”سکول میں عمران خان میری کلاس میں پڑھتا تھا، جب بھی کسی دوسرے سکول کے ساتھ کرکٹ کا میچ ہوتا تو اسے باہر بینچ پر بٹھادیا جاتا تھا کیونکہ ۔ ۔ ۔“عمران خان کے ٹیچر نے ایسا انکشاف کردیا کہ آپ کو یقین نہ آئے

لاہور (سٹارایشیانیوزاسپیشل) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق کرکٹ کپتان عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن چکے ہیں اور ان کے چاہنے والے یا ناقدین اپنے اپنے انداز میں اپنے جذبات بیان کررہے ہیں، ایسے میں عمران خان کے سکول کے دنوں کے ایک گوراٹیچر کا بھی موقف سامنے آگیا جن کا خیال تھاکہ وہ ایک دن ضرور اچھے کرکٹر بنیں گے لیکن سکول کا ہیڈماسٹرانگریزی کے ٹیچر کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتاتھا۔

محمد حنیف نے لکھاکہ ’انگلینڈ کے شہر مانچسٹر کی ایک سہانی شام تھی اور راقم وہاں کی مرکزی لائبریری کی ایک نیم ادبی، نیم سیاسی تقریب میں شریک تھا۔ تقریب ختم ہوتے ہی میں لائبریری سے باہر بھاگا تاکہ سگریٹ کی منحوس طلب پوری کر سکوں۔ تقریب کے سامعین میں شریک ایک بزرگ گورا پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ ماضی کے تجربات سے اندازہ ہے کہ ہر ایسی تقریب میں ایک آدھ ایسا گورا یا گوری ہوتی ہے جس نے جوانی میں کچھ وقت کراچی، لاہور یا پشاور میں گزارا ہوتا ہے اور وہ پاکستان میں گزرے اپنے اچھے وقت کی، ہماری شاندار میزبانی کی باتیں کرنا چاہتا ہے۔

یہ بزرگ بھی جوانی میں کچھ سال لاہور میں گزار چکے تھے۔ تعارف کے فوراً بعد بولے عمران خان کیسا جا رہا ہے۔ میں نے عرض کی، ابھی تو دو مہینے بھی نہیں ہوئے، کچھ وقت تو دیں۔ فوراً بولے میں لاہور میں سکول ٹیچر تھا اور عمران خان میری کلاس میں ہوتا تھا۔ میں نے پوچھا، کب، کون سی کلاس، کون سا سکول۔ فرمایا ایچیسن کالج جانے سے قبل عمران خان کیتھیڈرل سکول میں پڑھتا تھا اور میں وہاں انگریزی کا استاد تھا۔

میں نے کہا انگریزی پڑھانے میں تو آپ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ویسے پڑھائی میں عمران خان کیسے تھے؟ کہنے لگے بس ٹھیک ہی تھے لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ سیاست میں آئیں گے یا پھر ایک دن۔۔۔ میں نے کہا چھوڑیں کئی پاکستانیوں نے بھی کبھی یہ نہیں سوچا تھا لیکن ہمارے تجزیہ نگاروں اور ستارہ شناسوں نے سوچ لیا تھا اور جب وہ سوچ لیں تو پھر کسی سکول ماسٹر کی سوچ کوئی معنی رکھتی چاہے وہ ماسٹر ایک پردیسی گورا ہی کیوں نہ ہولیکن کرکٹ میں بہت اچھے تھے۔ ماسٹر صاحب بولے۔ میرے اور ہیڈماسٹر صاحب میں اکثر بحث رہتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ لڑکا کرکٹ میں کبھی آگے نہیں جائے گا کیونکہ فاسٹ بولنگ کے لیے اس کا ایکشن ٹھیک نہیں لیکن مجھے یقین تھا کہ یہ لڑکا ایک دن پاکستان کے لیے ضرور کھیلے گا۔

اس کے فوراً بعد ماسٹر صاحب نے ایک اور بات بتائی جسے سن کر تھوڑا دکھ ہوا، تھوڑی حیرت ہوئی اور عمران خان کی تاریخ ساز شخصیت کا ایک پہلو تھوڑا سا سمجھ آیا۔فرمانے لگے کہ عمران خان چھٹی جماعت میں اتنے زبردست کرکٹر تھے کہ لاہور کے دوسرے سکولوں سے ہمارا میچ ہوتا تھا تو ان کی پیشگی شرط ہوتی تھی کہ ہم میچ صرف اسی صورت میں کھیلیں گے اگر عمران ٹیم میں شامل نہیں ہو ںگے تو جب ہمارے انٹرسکول میچ ہوتے تھے تو عمران کو بینچ پر بٹھا دیتے تھے۔

اگر آپ مرد ہیں اور اتنے خوش قسمت ہیں کہ کسی ایسے سکول میں تعلیم پائی ہے جہاں کرکٹ باقاعدگی سے کھیلی جاتی ہو گی تو دھندلا سا یاد ہو گا کہ گراؤنڈ میں ہوئی بچپن کی بے عزتی اور اس عمر میں ملنے والی عزت بندہ کبھی نہیں بھولتا۔ سلپ میں پکڑا ہوا کیچ، پہلی گیند پر اڑتی ہوئی وکٹ اور دشمن امپائر کا دیا ہوا غلط رن آؤٹ ساری عمر یاد رہتا ہے۔چھٹی جماعت کے عمران خان کو ایک انوکھی صورتحال کا سامنا ہے۔

آپ کی ٹیم میچ کھیل رہی ہے اور آپ کو ٹیم سے اس لیے باہر کر دیا گیا ہے کہ مخالف ٹیم آپ سے خوفزدہ ہے۔یوں لگتا ہے کہ عمران خان نے گذشتہ 22 برس سیاست کے میچ میں باہر بینچ پر کبھی بیٹھ کر، کبھی کھڑے ہو کر، کبھی انقلابی بن کر، کبھی وہابی بن کر، کبھی دھرنا دے کر، کبھی لانگ مارچ کر کے یہ سوچتے ہوئے گزارے ہیں کہ مجھے اس لیے وزیراعظم نہیں بننے دیا جا رہا کیونکہ سب اندر سے جانتے ہیں کہ میں سب سے اچھا ہوں، اس کیساتھ ہی میں نے ماسٹر صاحب سے اجازت مانگی“۔

- Advertisement -

You might also like

- Advertisement -