حکومت نے براڈشیٹ سے متعلق معاہدے کی دستاویزات پبلک کر دیں

0 15

انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ سے متعلق اہم دستاویز پبلک کرنے کے لیے وکلا نے رابطے کیے ہیں اور اب ہم براڈ شیٹ کی کچھ دستاویز پبلک کر رہے ہیں، جس کے بعد سب کو تفصیلات تک رسائی ہوگی۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ براڈ شیٹ کے معاملے پر ہائی کورٹ فیصلے پر حکومت پاکستان نے اپیل فائل کی تھی۔ دسمبر 2000 میں پرویز مشرف اور نواز شریف میں معاہدہ ہوا اور وہ سعودی عرب چلے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور براڈ شیٹ میں معاہدہ جون 2000 میں ہوا۔ جتنے بھی کمیشن بنائے ہیں ان کی رپورٹ منظرعام پر لائی گئی ہے، 20 مئی 2008 میں براڈ شیٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ ہوئی تھی اور براڈ شیٹ کو 15 لاکھ ڈالرز کی ادائیگی ہوئی جبکہ جولائی 2019 میں ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی اس کا فیصلہ براڈشیٹ کے حق میں آیا۔
وزیر اعظم کے مشیر نے بتایا کہ نیب نے 2003 میں براڈ شیٹ سے معاہدہ منسوخ کیا، شفافیت کے بغیر احتساب کاعمل ممکن نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایون فیلڈ کی مد میں براڈ شیٹ کو 15 لاکھ ڈالرز دیے گئے تھے، ہماری اگست 2018 میں حکومت آئی تھی اور براڈ شیٹ کے معاملے پر ہائی کورٹ میں اپیل 2019 میں کی تھی

Leave A Reply

Your email address will not be published.